Seema Shaikh


Whether my existence endures or not, my words will endure, continuing to embody my thoughts, emotions, creativity, and affection. The thinking mind is a divine blessing: consciousness, a precious gift from the Creator; a unique endowment that can be paid for by enduring pain and dedicating oneself to the art of expression through words. I have embraced this endeavour and will remain so till the last breath of my life, taking upon myself the duty to honour the bond I share with this gift.

سوچتا ذہن خدا کی عطا ہے اور پھر شعور قدرت کا اک خاص تحفہ اک ایسا خاص تحفہ جس کی قیمت درد سہنے اور لفظ لکھنے کی صورت ادا کی جاسکتی ہے سو میں نے بھی کوشش کی اور کرتی رہوں گی زندگی کی اخری سانس تک قلم سے جڑے اپنے رشتے کا حق ادا
کرنے کی کوشش ۔۔۔
میں رہوں یا نہ رہوں میرے لفظ میری سوچ ،میرےاحساس ،میرے تخیل اور میری محبت کا اظہار کرتے رہیں گے ۔۔۔

میں ایک لکھاری ہوں

میں ایک لکھاری ہوں
درد محسوس کرنا کام ہے میرا
خوابوں کی سوداگر ہوں
اپنے احساس کو
لفظوں میں ڈھالتی ہوں
اپنے تخیل کو پالتی ہوں
پہروں کہانی بنتی ہوں
اور پھر
اپنے خواب ،اپنے احساس
اپنے تخیل کو ،اپنی بنی کہانی کو
آنکھیں دینے والے کے ہاتھ سونپ دیتی ہوں
میں ایک لکھاری ہوں

سیما شیخ

Written by Seema Shaikh


ON-AIRed Dramas


My Work


Pakeeza Phuppo


Mein Adhoori

Baba Ki Rani

Kab Meray Kehlao Gay


Rishtay Kachay Dhagon Se

And the journey of writing continues …


In my brief existence, I have perceived life in all its forms and intricacies, deeply experienced the good and bad sides of my fellow beings, confronted the harsh realities prevailing in society, and analyzed the root causes of its decline from both a general and a personal perspective. With a heavy heart, I have observed how individuals, driven by self-interest, embrace a perfect religion only in its partiality to their own advantage. Through the lens of my vivid imagination, I have channelled these observations into written form and presented before you trying my best to present those from contemporary perspective.

While your views need not align with mine, mutual respect and reciprocal recognition should always be the cornerstone of our interaction.

اپنی اس قلیل زندگی میں میں نے زندگی کو جس قدر باریکیوں سے دیکھا ،پرکھا اور پھر اپنے لوگوں کو ان کی اچھائی برائی کو جس حد تک محسوس کیا ،اپنے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو تنزلی کے سب ہی اسباب کو عامیانہ اور خاص نظروں سے جس کرب کے ساتھ دیکھا اور اک مکمل دین کو اپنے اپنے مفاد میں آدھا ادھورا تھوڑا ،پورا اپناتے دیکھا اور میرے تخیل کی قدرتی صلاحیت جس سے انکار ممکن ہی نہیں یہ سب من و عن سوچ سے لفظوں کے پیرہن میں ڈھالے ،ہاتھ قلم کا تھامے میری تحریریں آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ۔
آپ کی رائے کا میری رائے میرے نظرئیے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہاں مگر آپ کا اور میرا ایک دوسرے کے لئیے محترم ہونا ضروری ہے ۔۔۔

– Seema Shaikh

My Writing Blog

Follow Along

Meri Nazam 2

میں ایک لکھاری ہوں میں ایک لکھاری ہوںدرد محسوس کرنا کام ہے میراخوابوں کی سوداگر ہوںاپنے احساس کولفظوں میں ڈھالتی ہوںاپنے تخیل کو پالتی ہوںپہروں کہانی بنتی ہوںاور پھراپنے خواب ،اپنے احساساپنے تخیل کو ،اپنی بنی کہانی کوآنکھیں دینے والے کے ہاتھ سونپ دیتی ہوںکیونکہ میں...

“بابا کے نام”

میرے ارد گرد اک ہالا سا مسلسل رہتا ہے بابا کی دعاؤں کا سلسلا جو ساتھ رہتا ہے ٹوٹتے  ٹوٹتے قرینے سے سمیٹ لیتا ہے مجھ کو بکھرنے نہیں دییتا محبت کا خزینہ جو ساتھ رہتا ہے آنسوؤں کے درمیان بھی مسکرادیتی ہوں میں دھوپ کی تمازت میں بادل جو ساتھ رہتا ہے غم کی  طوفانی بارش میں ...

Schedule an Event

Contact Agent

Contact Author