میرے ارد گرد اک ہالا سا مسلسل رہتا ہے

بابا کی دعاؤں کا سلسلا جو ساتھ رہتا ہے

ٹوٹتے  ٹوٹتے قرینے سے سمیٹ لیتا ہے مجھ کو

بکھرنے نہیں دییتا محبت کا خزینہ جو ساتھ رہتا ہے

آنسوؤں کے درمیان بھی مسکرادیتی ہوں میں

دھوپ کی تمازت میں بادل جو ساتھ رہتا ہے

غم کی  طوفانی بارش میں  بھیگنے نہیں دیتا

 سر پر میرے شفیق  سائبان جو ساتھ رہتا ہے

خراج و عقیدت و محبت  سب بے معنی لگتے ہیں

عبادت  گاہ کا مینار جو ساتھ رہتا ہے

ممکن ہی نہیں میرے قدموں میں لرزش سیما

انمول و مستحکم آسمان جو ساتھ رہتا ہے

تاریک تنہائیوں میں بھی تنہا رہنے نہیں دیتا

میرے بابا کا محبت سے بھرپور سایہ جو ساتھ رہتا ہے

سیما شیخ